Sunday, 17 April 2022

جب سے مرے رقیب کا رستہ بدل گیا

جب سے مِرے رقیب کا رستہ بدل گیا

تب سے مِرے نصیب کا نقشہ بدل گیا

شیریں تھا کتنا آپ کا انداز گفتگو

دو چار سِکے آتے ہی لہجہ بدل گیا

کس کی زبان سے مجھے دیکھو خبر مجھے

کیسے مِرے حریف کا چہرہ بدل گیا

ان کے بدلنے کا مجھے افسوس کچھ نہیں

افسوس یہ ہے اپنا ہی سایہ بدل گیا

جب سے بڑوں کی گھر سے حکومت چلی گئی

جنت نما مکان کا نقشہ بدل گیا

راہوں کی خاک چھانتا پھرتا ہوں آج تک

رہبر بدل گیا، کبھی رستہ بدل گیا

کہتا ہے اس کے جانے سے کچھ بھی نہیں ہوا

مہتاب جبکہ دل کا وہ ڈھانچہ بدل گیا


بشیر مہتاب

No comments:

Post a Comment