دردِ دل کب سنبھل کے نکلا ہے
جب بھی نکلا مچل کے نکلا ہے
آپ آنسو سمجھ رہے ہیں جسے
یہ مِرا دل پگھل کے نکلا ہے
خار کو خار ہے کہ پھر گلچیں
کچھ گلوں کو مسل کے نکلا ہے
قہقہہ میرا جذب و مستی میں
سامنے پھر اجل کے نکلا ہے
بڑھ رہی ہے قضا مِری جانب
تیرا دل کیوں دہل کے نکلا ہے
ہجر کی بات پوچھتے ہو کیا
خوں جگر کا اُبل کے نکلا ہے
یہ ہے عطار کی زمیں اس میں
شعر خوشبو میں پَل کے نکلا ہے
عطا عطار
No comments:
Post a Comment