Saturday, 13 November 2021

دشت غربت میں اگر ساتھ تمہارا ہوتا

 دشتِ غربت میں اگر ساتھ تمہارا ہوتا

کیوں نہ صدیوں کا سفر ہم کو گوارا ہوتا

اپنی تزئین سے کچھ وقت بچا کر جاناں

میرے ماحول کی زلفوں کو سنوارا ہوتا

اپنے مسند سے ذرا نیچے اتر کر تو نے

ایک لمحہ ہی مِرے ساتھ گزارا ہوتا

رک نہ جاتا وہ کسی کوہِ گراں کی مانند

تُو نے گر وقت کے دریا کو پکارا ہوتا

میرے بے نور دریچوں میں ضیا کی خاطر

کوئی جگنو، کوئی سورج، کوئی تارا ہوتا


بشیر احمد شاد 

No comments:

Post a Comment