Saturday, 13 November 2021

مگرمچھ کی صورت وہ ہم دیکھتے ہیں

 مگرمچھ کی صورت وہ ہم دیکھتے ہیں

سیاست میں جو چشمِ نم دیکھتے ہیں

جو زندہ ہیں دھرتی پہ اپنے وطن میں

یہ خود پر خدا کا کرم دیکھتے ہیں

وڈیروں کے دورِ حکومت میں ہم تو

ستم ہی ستم پر ستم دیکھتے ہیں

مِرا سر مِرے جسم پر کب وہ چاہیں

لہو میں جو ڈوبا قلم دیکھتے ہیں

قلم جن کو دینا تھا گلشن میں اپنے

گلابوں کے ہاتوں میں بم دیکھتے ہیں

گزرتے نہیں اس گلی سے بھی ظالم

''جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں''

خوشی کی تمنا ہے اپنی عبث گل

کہ دہلیز پر غم ہی غم دیکھتے ہیں


گل بخشالوی

No comments:

Post a Comment