جس وقت بھی کھینچا ہے نقشہ تِرا لفظوں میں
اڑنے لگے اترا کر الفاظ ہواؤں میں
اک ساتھ مسیحا کے آب و گل نسبت سے
کیا جان تڑپتی ہے بے جان ہیولوں میں
دنیا میں محبت بھی کیا صوتِ خموشی ہے
جاں چھین لے زندوں کی، جاں ڈال دے مردوں میں
بازار میں ملتی ہے اس طور سزائے وصل
کیا عبرتیں پنہاں ہیں، چپکے ہوئے ہونٹوں میں
ہر صحبت برہم کا تا زیست کریں ماتم
نوحے متسلسل ہیں گزرے ہوئے وقتوں میں
رخصت ہے نہ راحت ہے فرصت نہ فراغت ہے
تبدیل ہوئے کیا کیا انسان مشینوں میں
کتری تھی زباں اپنی اور حرف بنائے تھے
ہوتا ہے شمار اپنا یوں لال زبانوں میں
اصغر علی شاہ
No comments:
Post a Comment