Friday, 12 November 2021

یہ تکمیل عبادت ہے خدا سے دل لگا لینا

عارفانہ کلام حمدیہ کلام


یہ تکمیلِ عبادت ہے خدا سے دل لگا لینا

یہی تکمیلِ سنت ہے دعاؤں سے دوا لینا

مِرے سینے سے اے مولیٰ مٹا دے خواہشِ دنیا

جسے خالق سے الفت ہو اسے دنیا سے کیا لینا

کہاں میں جاؤں گی یا رب سہارا چھوڑ کر تیرا

یہ دنیا سازشوں کی ہے مجھے بس تو بچا لینا

مجھے بھی چاہئے یارب تیری قربت، تیری جنت

تِرا ہی خوف ہو دل میں مجھے اپنا بنا لینا

جہاں میں ہر طرف عصیاں کے ہیں چھائے ہوئے بادل

مرے اللہ! تُو مجھ کو گناہوں سے بچا لینا

بڑی تسکین ملتی ہے تلاوت سے عبادت سے

کتابوں میں لکھا دیکھا خدا سے لَو لگا لینا

بڑی حسرت ہے دل میں کہ تِرے گھر کی زیارت ہو

مجھے حاصل سعادت ہو مجھے در پر بلا لینا


زارا فراز

No comments:

Post a Comment