Friday, 12 November 2021

عبادتوں کا چراغاں تمہاری گلیوں میں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


عبادتوں کا چراغاں تمہاری گلیوں میں

صراطِ حق ہے فروزاں تمہاری گلیوں میں

کتاب عیسیٰ و موسیٰ رکھی ہے طاقوں پر

ہدایتوں کا دبستاں تمہاری گلیوں میں

جبینِ شوق سے چھوتے رہیں گے جالی کو

نکل ہی جائے گا ارماں تمہاری گلیوں میں

نہیں ہے بوند برابر بھی ظلمتوں کا گزر

ردائے نور فروزاں تمہاری گلیوں میں

پروں کو اپنے سمیٹے ہوئے کھڑا ہے ملک

رواں ہے چشمۂ حیواں تمہاری گلیوں میں

کہیں حدیث کی خوشبو کہیں ہے ذکرِ خدا

مرا مرا سا ہے شیطاں تمہاری گلیوں میں

ہمیں پہاڑ پہ جانے کی کیا ضرورت ہے

ہوئے ہیں طور کے امکاں تمہاری گلیوں میں

پھرے گا جعفری سید نژاد روزانہ

گلے میں ڈال کے قرآں تمہاری گلیوں میں


مسعود جعفری

No comments:

Post a Comment