کل زندگی کے خواب کی تعبیر مل گئی
تھی جس کی مجھ کو جستجو وہ ہِیر مل گئی
اپنی دعا پہ تھا مجھے کچھ اس قدر یقین
مانگی خدا سے جو، وہی جاگیر مل گئی
جو لوگ بے وقار سے پھرتے تھے شہر میں
میرے سبب سے ان کو بھی توقیر مل گئی
برسیں وفا کے چاند کی کرنیں کچھ اس طرح
بے نور آنگنوں کو بھی تنویر مل گئی
قرطاسِ زندگانی پہ دیکھا جو غور سے
تجھ جیسی ہُو بہُو کوئی تصویر مل گئی
ہاتھوں کی اُلٹی سیدھی لکیروں کو دیکھ کر
وہ شوخ کہہ رہا تھا کہ؛ تحریر مل گئی
بشیر احمد شاد
No comments:
Post a Comment