Friday, 18 March 2022

آرزو جاگے ترے لمس کا رس تک جاگے

 آرزو جاگے، تِرے لمس کا رس تک جاگے

روز حسرت یہ مِری رات کے دس تک جاگے

ایسی بھرپور جوانی کہ خدا یاد آئے

ایسا با اذن سراپا کہ ہوس تک جاگے

سو گئی جُھریوں بھری آنکھ، نہیں اب کوئی

جو مِری راہ تکے، آخری بس تک جاگے

نیند آئے تو کسی سین کو فلماؤں میں

آنکھ سوئے تو کسی خواب کی دستک جاگے

کیسے اس نیند کے رسیا کو پتہ چلنا ہے

سوچنے والے اسے، کتنے برس تک جاگے

اس کو بوڑھے بھی اگر دیکھیں، جواں ہو جائیں

وہ چھوئے جسم تو سوئی ہوئی نس تک جاگے


آزاد حسین آزاد

No comments:

Post a Comment