پھر اس کی خوشبو پکارے کسی کتاب میں بند
وہ ایک پھول کھلا تھا جو میرے خواب میں بند
میں کر رہا ہوں بدن سے تِرے کشید مہک
میں کر رہا ہوں تِرے حسن کو گلاب میں بند
میں اس کو چھیڑ کے خود بھی بہت پشیماں تھا
عجیب کیف تھا اس سازِ بے رباب میں بند
بس ایک لمحۂ گزراں تھا سائبانِ سماں
مِرے بہار و خزاں تھے کسی غیاب میں بند
نہ جانے کتنے زمانے مہکتے پھول میں تھے
نہ جانے کتنے ترانے تھے صوتِ آب میں بند
اسی خرابے سے پھوٹے گا جا بہ جا سبزہ
ندائے آب چہکتی ہے اس سراب میں بند
رضوان فاخر
No comments:
Post a Comment