Friday, 18 March 2022

پھر اس کی خوشبو پکارے کسی کتاب میں بند

 پھر اس کی خوشبو پکارے کسی کتاب میں بند

وہ ایک پھول کھلا تھا جو میرے خواب میں بند

میں کر رہا ہوں بدن سے تِرے کشید مہک

میں کر رہا ہوں تِرے حسن کو گلاب میں بند

میں اس کو چھیڑ کے خود بھی بہت پشیماں تھا

عجیب کیف تھا اس سازِ بے رباب میں بند

بس ایک لمحۂ گزراں تھا سائبانِ سماں

مِرے بہار و خزاں تھے کسی غیاب میں بند

نہ جانے کتنے زمانے مہکتے پھول میں تھے

نہ جانے کتنے ترانے تھے صوتِ آب میں بند

اسی خرابے سے پھوٹے گا جا بہ جا سبزہ

ندائے آب چہکتی ہے اس سراب میں بند


رضوان فاخر

No comments:

Post a Comment