طویل ہجر کی یکبارگی تلافی ہیں
تمہارے صبر گزاروں کو خواب کافی ہیں
بس ایک بار انہیں دیکھنے کی خواہش ہے
پھر اس کے بعد یہ آنکھیں ہمیں اضافی ہیں
ترے خطوں میں بھی پہلی سی گرم جوشی نہیں
مری طرف سے بھی کچھ نوٹ اختلافی ہیں
یہ شہر تیرے شبستاں کے راز جان نہ لے
کھلے دریچے بہر طور انکشافی ہیں
آزاد حسین آزاد
No comments:
Post a Comment