Monday, 5 October 2020

تمہارے صبر گزاروں کو خواب کافی ہیں

 طویل ہجر کی یکبارگی تلافی ہیں

تمہارے صبر گزاروں کو خواب کافی ہیں

بس ایک بار انہیں دیکھنے کی خواہش ہے

پھر اس کے بعد یہ آنکھیں ہمیں اضافی ہیں

ترے خطوں میں بھی پہلی سی گرم جوشی نہیں

مری طرف سے بھی کچھ نوٹ اختلافی ہیں

یہ شہر تیرے شبستاں کے راز جان نہ لے

کھلے دریچے بہر طور انکشافی ہیں


آزاد حسین آزاد

No comments:

Post a Comment