دیکھ تو گھر سے نکل کر کہ گلی میں کیا ہے
تجھ میں کچھ بھی نہ سہی اور کسی میں کیا ہے
ملتے رہتے ہیں بہت لوگ تمہارے جیسے
پر سمجھ میں نہیں آتا کہ تمہی میں کیا ہے
میں نے یہ سوچ کے روکا نہیں جانے سے اسے
بعد میں بھی یہی ہو گا تو ابھی میں کیا ہے
تیز چلنا مجھے آتا ہے مگر آپ کے ساتھ
کیف مت پوچھئے آہستہ روی میں کیا ہے
سب کچھ احساس پہ موقوف ہوا کرتا ہے
غم میں کیا ہے مِرے بے درد خوشی میں کیا ہے
انور شعور
No comments:
Post a Comment