Monday, 5 October 2020

اس کھوج میں جلتا ہے بہت خون ہمارا

 اس کھوج میں جلتا ہے بہت خون ہمارا

کیوں ایسے چرا لے کوئی مضمون ہمارا

پہلے یہ تسلی تھی کہ ملتا نہیں نمبر

اب اور اٹھاتا ہے کوئی فون ہمارا

ہم جیسوں کی ٹھوکر نے سنواری تِری دنیا

ہونا تو تجھے چاہیے ممنون ہمارا

احوال چھپانا کہاں ممکن ہے کسی سے

باطن سے بنایا گیا بیرون ہمارا

بتلائی گئی جتنی ہمیں عمر زمیں کی

ہر شہر میں ہو گا کوئی مدفون ہمارا


اظہر فراغ

No comments:

Post a Comment