Monday, 5 October 2020

وہ کہہ گیا تھا نئے موسموں کا آیا نہيں

 وہ کہہ گیا تھا نئے موسموں کا، آیا نہيں

اور ایک میں ہوں ابھی تک، دِیا بجھایا نہيں

تم ایسے کون سے یوسف مثال تھے، ہم نے

جسے بھی ٹوٹ کے چاہا، گلے لگایا نہيں

میں صرف اِسم نہيں، جسم بھی پڑھاتا ہوں

تمہیں کسی نے ابھی ٹھیک سے بتایا نہيں

یہ خواب گاہ، مِرا مستقل ٹھکانہ ہے

یہ وہ مکان ہے جس کا کوئی کرایہ نہيں

میں فیصلے پہ نہيں، فاصلے پہ ٹھہرا ہوں

میں لوٹ آیا ہوں، لیکن پلٹ کے آیا نہيں

تجھے کہا تھا مِرا دل نہيں، یہ جنگل ہے

یہاں درخت تو اگتے ہیں یار، سایا نہيں


عمران عامی

No comments:

Post a Comment