Monday, 5 October 2020

یہ موت فوت فقط استعارہ ہوتا ہے

 یہ موت فوت فقط استعارہ ہوتا ہے

وگرنہ آدمی کو غم نے مارا ہوتا ہے

ہم ایک عشق کے قائل کبھی رہے ہی نہیں

اک آدھ عشق پہ کس کا گزارہ ہوتا ہے

کسی کسی کا مقدر چمک بھی جاتا ہے

کسی کسی کی جبیں پر ستارہ ہوتا ہے

میں خبطِ عشق میں بے موت مارا جاؤں گا

ہمیشہ خواب میں مجھ کو اشارہ ہوتا ہے

یہ کاروبارِ محبت عجیب ہے اس میں

مضاربہ نہیں ہوتا، اجارہ ہوتا ہے

ہم اپنے اپنے خساروں کو عشق کہتے ہیں

وگرنہ عشق میں کس کو خسارہ ہوتا ہے

وہ پھر ملے گا کسی موڑ پر مجھے اک بار

جو ہو چکا ہو وہ اکثر دوبارہ ہوتا ہے

مگر یہ طے ہے کہ جوایک بار ہم سے ملے

کسی کا ہو بھی گیا ہو ہمارا ہوتا ہے

پھر اس کا روپ کسی دھوپ سے نہیں بجھتا

ہماری آنچ نے جس کو نکھارا ہوتا ہے

یہ محض مصرعۂ ثانی نہیں حقیقت ہے

خدا فسردہ دلوں کا سہارا ہوتا ہے

پھر اس سے جیتنا مشکل ہے افتخار مغل

جو ایک بار محبت میں ہارا ہوتا ہے


افتخار مغل

No comments:

Post a Comment