یہ موت فوت فقط استعارہ ہوتا ہے
وگرنہ آدمی کو غم نے مارا ہوتا ہے
ہم ایک عشق کے قائل کبھی رہے ہی نہیں
اک آدھ عشق پہ کس کا گزارہ ہوتا ہے
کسی کسی کا مقدر چمک بھی جاتا ہے
کسی کسی کی جبیں پر ستارہ ہوتا ہے
میں خبطِ عشق میں بے موت مارا جاؤں گا
ہمیشہ خواب میں مجھ کو اشارہ ہوتا ہے
یہ کاروبارِ محبت عجیب ہے اس میں
مضاربہ نہیں ہوتا، اجارہ ہوتا ہے
ہم اپنے اپنے خساروں کو عشق کہتے ہیں
وگرنہ عشق میں کس کو خسارہ ہوتا ہے
وہ پھر ملے گا کسی موڑ پر مجھے اک بار
جو ہو چکا ہو وہ اکثر دوبارہ ہوتا ہے
مگر یہ طے ہے کہ جوایک بار ہم سے ملے
کسی کا ہو بھی گیا ہو ہمارا ہوتا ہے
پھر اس کا روپ کسی دھوپ سے نہیں بجھتا
ہماری آنچ نے جس کو نکھارا ہوتا ہے
یہ محض مصرعۂ ثانی نہیں حقیقت ہے
خدا فسردہ دلوں کا سہارا ہوتا ہے
پھر اس سے جیتنا مشکل ہے افتخار مغل
جو ایک بار محبت میں ہارا ہوتا ہے
افتخار مغل
No comments:
Post a Comment