Saturday, 19 June 2021

میں جانتا ہوں سبھی مسئلوں کا حل پگلی

 میں جانتا ہوں سبھی مسئلوں کا حل پگلی

تُو صرف ہاتھ پکڑ اور ساتھ چل پگلی

ہمارے جیسے غلاموں کا کیا ہے جی لیں گے

تمہیں اداس کریں گے یہ مورچھل پگلی

یہ کس کا ہجر لکھا ہے تمہارے ماتھے پر

یہ کس کے وصل نے ڈالے ہیں اتنے بل پگلی

کسی کے خواب مریں گے، کسی کے مہکیں گے

کسی کی آنکھ سمندر، کسی کی تھل پگلی

یہ خود کلامی کی عادت تِری نئی نئی ہے

تُو کس خیال کے تابع ہے آج کل پگلی

اری یہ عشق کی رڑکن ہے، جانے والی نہیں

مزید اشک بہیں گے، نہ آنکھ مَل پگلی

یہ خوش لباس بدن کھوکھلے ہیں جذبوں سے

سراب ہیں جو نظر آ رہے ہیں جل پگلی

قضا، خدا نے محبت میں رکھی ہے ہی نہیں

نماز پڑھ لے کہ سورج نہ جائے ڈھل پگلی 


آزاد حسین آزاد

No comments:

Post a Comment