Friday, 11 March 2022

دھوپ میں بیٹھے ہیں بچے ہاتھ میں چھاگل لئے

 دھوپ میں بیٹھے ہیں بچے ہاتھ میں چھاگل لیے

سو گئیں شاید ہوائیں گود میں بادل لیے

آ رہا ہے چپ کے تالابوں میں پتھر پھینکتا

اک جلوس کُودکاں کو ساتھ اک پاگل لیے

ان اندھیری بستیوں میں رکھ نہ دروازہ کھلا

کون آتا ہے یہاں اپنائی کی مشعل لیے

ذات میں گم صم یوں ہی سڑکوں پہ دن بھر گھومنا

اور شب کو سوچنا پہلو میں دل بے کل لیے

کیا عجب اس پر مہک ہی جائیں درماں کے گلاب

ہے تو اک شاخِ نظر امید کی کونپل لیے

آج تک بے سمتیوں کی رہروی نے کیا دیا

اب ذرا دم لے بھی لو بزمی بہت کچھ چل لیے


پرویز بزمی

No comments:

Post a Comment