Sunday, 5 December 2021

دل ایک تپتے ہوئے صحرا کا مندر ہے

 صحرا کا مندر


دل ایک تپتے ہوئے صحرا کا مندر ہے

جہاں آشاؤں کی لاکھوں

مقید دیوداسی تتلیوں کا رقص جاری ہے

تھرکتی تتلیوں کے جسم تپتے ہیں

گھٹا کی راہ تکتے ہیں

کسی جھونکے کی دستک سن کے

آسوں، وسوسوں کی ڈور پکڑے

دیوداسی کوئی

مندر کا دریچہ کھول دیتی ہے

گھٹا آلود لمحے کے لپکتے بازوؤں میں 

جھول جاتی ہے

مگر یہ بھول جاتی ہے

مسرت کی خنک چھاؤں کا ہر لمحہ گریزاں ہے

جو دل صحرا کے مندر کو

گھڑی بھر چھونے آتا ہے

انہیں قدموں سے واپس لوٹ جاتا ہے


پرویز بزمی

No comments:

Post a Comment