صحرا کا مندر
دل ایک تپتے ہوئے صحرا کا مندر ہے
جہاں آشاؤں کی لاکھوں
مقید دیوداسی تتلیوں کا رقص جاری ہے
تھرکتی تتلیوں کے جسم تپتے ہیں
گھٹا کی راہ تکتے ہیں
کسی جھونکے کی دستک سن کے
آسوں، وسوسوں کی ڈور پکڑے
دیوداسی کوئی
مندر کا دریچہ کھول دیتی ہے
گھٹا آلود لمحے کے لپکتے بازوؤں میں
جھول جاتی ہے
مگر یہ بھول جاتی ہے
مسرت کی خنک چھاؤں کا ہر لمحہ گریزاں ہے
جو دل صحرا کے مندر کو
گھڑی بھر چھونے آتا ہے
انہیں قدموں سے واپس لوٹ جاتا ہے
پرویز بزمی
No comments:
Post a Comment