Wednesday, 21 April 2021

ٹوٹے لفظوں سے ہی اظہار کرے کوئی تو

 ٹُوٹے لفظوں سے ہی اظہار کرے کوئی تو

ہم یہ خود چاہتے ہیں، ہم پہ مَرے کوئی تو

ٹھان رکھی ہے کہ دے دیں گے اسے آبِ حیات

دل کے چشمے سے کبھی ڈول بھرے کوئی تو

دیکھ لے جو مِرے سینے میں سُلگتا ہوا دُکھ

اور اسے کر دے مِرے دل سے پرے کوئی تو

کل سے کمرے میں مقیّد ہے ملاقات کے بعد

جا کے دیکھے مِرے مُضطر کو ارے کوئی تو

دل کی دھڑکن میں نہ چہرے پہ تغیّر آئے

اب تِرا ذکر سرِ بزم کرے کوئی تو

ہم نے چاہا ہے اسے اور بھی چاہیں گے سہیل

ہم پہ سو مرتبہ تُہمت یہ دھرے کوئی تو


احمد سہیل 

No comments:

Post a Comment