Sunday, 12 March 2023

وہیں ملیں گے شام جہاں ڈھلتی ہے

 وہیں ملیں گے


کلینڈر کے سبھی مصروف دنوں کو رد کر کے

بھول کر اپنی موجودہ عمر

میدانوں میں ٹاٹ بچھا کر 

درختوں کے پیچھے چھپ کر

ہاتھ تھام کر اپنے بچپنے پر ہنسیں گے

وہیں ملیں گے

شام کی سرخی ڈھلتے ہی تم گھر جانے کے لیے پریشاں ہو جانا

میں کہوں گا؛ رکو ابھی تھوڑا وقت باقی ہے

یہی تھوڑا وقت جسے ہم نے اپنی پوری عمر نظر انداز کیا

اور مصروف رہے دنیا کے کاموں میں

آج مگر وہ دن ہے کہ دنیا سے کوئی تقاضا بھی نہیں

تجھ سے کبھی جو شکوہ ہوتا تھا 

وہ شکوہ بھی نہیں

اتنے سالوں بعد تو مگر میں ویسا رہا بھی نہیں

تجھ پر بھی زمانے نے رسیاں ڈال دی ہیں

مجھ کو بھی وقت پر گھر جانا ہوتا ہے

خیر یہ دن جو آج آیا ہے

اسی دن میں آج ہم گزشتہ 

اور آئندہ سالوں کو خوب جئیں گے

وہیں ملیں گے

جھیلیں جہاں ملتی ہیں

برف جہاں گرتی ہے

شام جہاں ڈھلتی ہے

پھول جہاں کھلتے ہیں

جہاں سبزہ اگتا ہے

راستہ نکلتا ہے


تنویر حسین

No comments:

Post a Comment