وہیں ملیں گے
کلینڈر کے سبھی مصروف دنوں کو رد کر کے
بھول کر اپنی موجودہ عمر
میدانوں میں ٹاٹ بچھا کر
درختوں کے پیچھے چھپ کر
ہاتھ تھام کر اپنے بچپنے پر ہنسیں گے
وہیں ملیں گے
شام کی سرخی ڈھلتے ہی تم گھر جانے کے لیے پریشاں ہو جانا
میں کہوں گا؛ رکو ابھی تھوڑا وقت باقی ہے
یہی تھوڑا وقت جسے ہم نے اپنی پوری عمر نظر انداز کیا
اور مصروف رہے دنیا کے کاموں میں
آج مگر وہ دن ہے کہ دنیا سے کوئی تقاضا بھی نہیں
تجھ سے کبھی جو شکوہ ہوتا تھا
وہ شکوہ بھی نہیں
اتنے سالوں بعد تو مگر میں ویسا رہا بھی نہیں
تجھ پر بھی زمانے نے رسیاں ڈال دی ہیں
مجھ کو بھی وقت پر گھر جانا ہوتا ہے
خیر یہ دن جو آج آیا ہے
اسی دن میں آج ہم گزشتہ
اور آئندہ سالوں کو خوب جئیں گے
وہیں ملیں گے
جھیلیں جہاں ملتی ہیں
برف جہاں گرتی ہے
شام جہاں ڈھلتی ہے
پھول جہاں کھلتے ہیں
جہاں سبزہ اگتا ہے
راستہ نکلتا ہے
تنویر حسین
No comments:
Post a Comment