مار ڈالے گی ہُوک شہزادی
ایسی وحشت کو تُھوک شہزادی
تُو نے دیکھی ہے صرف خوشحالی
کاٹ کر دیکھ بُھوک شہزادی
آئینے میں دراڑ جیسے ہیں
دل کے اندر شکُوک شہزادی
عشق پتھر مزاج ہرجائی
تٗو ہے نازک ملٗوک شہزادی
مذہبِ عشق میں تو جائز ہے
تھوڑی سی بٗھول چٗوک شہزادی
کومل جوئیہ
No comments:
Post a Comment