رنج سارے ٹھکانے لگ گئے ہیں
پھول تحفے میں آنے لگ گئے ہیں
میں نے تعریف کی ہے ہونٹوں کی
آپ تو منہ بنانے لگ گئے ہیں
آپ کے ساتھ ہوں زمانے سے
آپ بھی آزمانے لگ گئے ہیں
آپ دو کوڑیوں کو روتے ہیں
اس پہ میرے خزانے لگ گئے ہیں
تُو حوالہ پرانے وقتوں کا نصیر
اب نئے دوستانے لگ گئے ہیں
عدنان نصیر
No comments:
Post a Comment