کیا اذیت ہے کہ بے کار پڑے ہیں گھر میں
اس پہ تنہائی کے انبار پڑے ہیں گھر میں
میرے ثروت کی کتابیں تری یادوں کی گھٹن
خود کشی کے کئی اوزار پڑے ہیں گھر میں
اک تِری یاد کا رونا ہو تو رو بھی لوں میں
اور سو طرح کے آزار پڑے ہیں گھر میں
کیوں نہ حاکم کو کٹے ہاتھ کا تحفہ بھیجوں
عہدِ کم ظرف ہے فنکار پڑے ہیں گھر میں
عدنان نصیر
No comments:
Post a Comment