Sunday, 10 April 2022

وہ شخص میری رسائی سے ماورا بھی نہ تھا

 وہ شخص میری رسائی سے ماورا بھی نہ تھا 

بشر بھی خیر نہ ہو گا مگر خدا بھی نہ تھا 

کہا شعور نے اس وقت حرف قم مجھ سے 

کہ لا شعور جگانے سے جاگتا بھی نہ تھا 

عجب تھی ساعتِ آغازِ گلستاں بندی 

نویدِ گل بھی نہ تھی مژدۂ صبا بھی نہ تھا 

وہ ابتدائے سفر اب بھی یاد آتی ہے 

کسی میں میری رفاقت کا حوصلہ بھی نہ تھا 

غلط نما و غلط بیں ہیں بعض آئینے 

اس اعتراض کو نقاد مانتا بھی نہ تھا 

شہیدِ ذوقِ تغزل تھا کم سخن جعفر

غزل کی بات نہ چلتی تو بولتا بھی نہ تھا 


جعفر بلوچ

No comments:

Post a Comment