Friday, 8 October 2021

ایسا کسی کے ساتھ کبھی سانحہ نہ ہو

ایسا کسی کے ساتھ کبھی سانحہ نہ ہو

گھر کے مکيں کو گھر ميں کوئی جانتا نہ ہو 

وه خوش ہے جا رہا ہے نیا شہر دیکھنے 

ميں ڈر رہا ہوں راه ميں کہيں حادثہ نہ ہو 

تھا اس کی دستیابی میں یہ وسوسہ مجھے 

اتنا حسیں نظارہ کہیں جا بجا نہ ہو

وہ تیز بھاگتا ہے، اسے باخبر کرو

ایسا نہ ہو کہ آگے کوئی راستہ نہ ہو

ہے اس کی آرزو کہ کرے ہر کوئی پسند 

اس پر يہ ضد کہ کوئی اسے دیکھتا نہ ہو 


صداقت نیازی

No comments:

Post a Comment