ایسا کسی کے ساتھ کبھی سانحہ نہ ہو
گھر کے مکيں کو گھر ميں کوئی جانتا نہ ہو
وه خوش ہے جا رہا ہے نیا شہر دیکھنے
ميں ڈر رہا ہوں راه ميں کہيں حادثہ نہ ہو
تھا اس کی دستیابی میں یہ وسوسہ مجھے
اتنا حسیں نظارہ کہیں جا بجا نہ ہو
وہ تیز بھاگتا ہے، اسے باخبر کرو
ایسا نہ ہو کہ آگے کوئی راستہ نہ ہو
ہے اس کی آرزو کہ کرے ہر کوئی پسند
اس پر يہ ضد کہ کوئی اسے دیکھتا نہ ہو
صداقت نیازی
No comments:
Post a Comment