کبھی سنی ہے پرندو ہوا کی سرگوشی
تو کیسی ہوتی ہے بولو، دعا کی سرگوشی
وہ کوئی چیخ تھی، نوحہ تھا، بین تھا، کیا تھا؟
کہ دلخراش بہت تھی صدا کی سرگوشی
سماعتیں حدِ ادراک میں مقید ہیں
سُنیں گی کیسے بھلا انتہا کی سرگوشی
مِری فضاؤں کو شاید سنائی دیتی ہو
حدِ نگاہ سے باہر خلا کی سرگوشی
میں ایک اسم کو اپنا حصار کرتا ہوں
سنائی دیتی ہے جب بھی بلا کی سرگوشی
گزشتہ رات مصلے نے میرے ساتھ سُنی
مِرے جھکے ہوئے دل سے خدا کی سرگوشی
زمانے بھر کی صداؤں کے شور پر زاہد
محیط کر دی گئی ہے حِرا کی سرگوشی
زاہد شمسی
No comments:
Post a Comment