وبا کے ضابطے بڑھنے لگے ہیں
سماجی فاصلے بڑھنے لگے ہیں
ہمارے عکس بجھتے جا رہے ہیں
چنانچہ آئینے بڑھنے لگے ہیں
تحیر ہے، اداسی ہے، یہ کیا ہے
کہ ہر سُو دائرے بڑھنے لگے ہیں
کرونا ہے کہ سازش ہے کسی کی
دلوں کے وسوسے بڑھنے لگے ہیں
خدائے عزوجل! ہم پر کرم کر
ہمارے مخمصے بڑھنے لگے ہیں
قدم تیزی سے پیچھے ہٹ رہے ہیں
صفی اب راستے بڑھنے لگے ہیں
افضل صفی
No comments:
Post a Comment