روشنی بانٹتے رہنے سے بکھر جاتا ہوں
شام ہوتے ہی میں پانی میں اتر جاتا ہوں
لوگ اُجڑے ہوئے، صدیوں میں سنورتے ہوں گے
میں تِرا نام بھی لے لوں تو سنور جاتا ہوں
پیچھے پیچھے مِرے ہوتے ہیں زمانے والے
میں کسی اور ہی رستے سے گزر جاتا ہوں
میں ہوں پانی، مِری مرضی نہیں شامل اس میں
جس طرف راستہ ملتا ہے، اُدھر جاتا ہوں
میں ہوں پلکوں سے اُترتا ہوا آنسو مظہر
چادرِ خاک پہ آتا ہوں تو مر جاتا ہوں
مظہر نیازی
No comments:
Post a Comment