Saturday, 22 August 2020

وہ مسافر راستوں کا ایک جا ٹھہرا نہ تھا

مدرسہ آوارگی اور ہاتھ میں بستہ نہ تھا 
جو کتابوں میں ہے لکھا اس کو وہ پڑھتا نہ تھا
یوں تو دروازے کھلے تھے سارے اسکے واسطے 
وہ مسافر راستوں کا ایک جا ٹھہرا نہ تھا
جو سناتا تھا کبھی آبِ رواں کی داستاں 
اس کے ہونٹوں کا مقدر اوس کا قطرہ نہ تھا
تشنگی ہی تشنگی تھی اور صحرا کے سراب 
آنکھ پانی پر تھی لیکن سامنے دریا نہ تھا
چھوڑ آیا تھا جسے میں خود انا کے زعم میں 
پھر پلٹ کر اس کو میں نے عمر بھر دیکھا نہ تھا
میرے ہاتھوں میں ہے خوشبو اسکے ہاتھوں کی ادیب
جسم جس کا چھو کے میں نے آج تک دیکھا نہ تھا

کرشن ادیب

No comments:

Post a Comment