مدرسہ آوارگی اور ہاتھ میں بستہ نہ تھا
جو کتابوں میں ہے لکھا اس کو وہ پڑھتا نہ تھا
یوں تو دروازے کھلے تھے سارے اسکے واسطے
وہ مسافر راستوں کا ایک جا ٹھہرا نہ تھا
جو سناتا تھا کبھی آبِ رواں کی داستاں
تشنگی ہی تشنگی تھی اور صحرا کے سراب
آنکھ پانی پر تھی لیکن سامنے دریا نہ تھا
چھوڑ آیا تھا جسے میں خود انا کے زعم میں
پھر پلٹ کر اس کو میں نے عمر بھر دیکھا نہ تھا
میرے ہاتھوں میں ہے خوشبو اسکے ہاتھوں کی ادیب
جسم جس کا چھو کے میں نے آج تک دیکھا نہ تھا
کرشن ادیب
No comments:
Post a Comment