Saturday, 22 August 2020

سر پھری پاگل ہوا کا تیز جھونکا آئے گا

سر پھری پاگل ہوا کا تیز جھونکا آئے گا 
حسرتوں کے خشک پتوں کو اڑا لے جائے گا 
دودھیا آکاش میں کس کو صدا دیتا ہے تُو 
تیرے ماضی کا پرندہ اب نہ واپس آئے گا 
چھوٹی چھوٹی خواہشوں کا قتل ہوتے دیکھ کر 
عمر کا احساس رخ پر گرد بن کے چھائے گا
وقت اس سے چھین لے گا خودپسندی کا غرور
ہاں، یقیناً وہ خدا بن کر بہت پچھتائے گا
وہ ہے سر تا پا مجسم اک فرانسیسی شراب
نشہ بن کر جسم اس کا ذہن پر بھی چھائے گا
خواہشوں کے جنگلوں میں لذتوں کے پیڑ ہیں
جن کے سائے میں مسافر دیر تک سستائے گا
آپ اپنی آگ میں ہم ہاتھ تاپیں گے ادیب
جب دسمبر ساتھ اپنے برفباری لائے گا

کرشن ادیب

No comments:

Post a Comment