سر پھری پاگل ہوا کا تیز جھونکا آئے گا
حسرتوں کے خشک پتوں کو اڑا لے جائے گا
دودھیا آکاش میں کس کو صدا دیتا ہے تُو
تیرے ماضی کا پرندہ اب نہ واپس آئے گا
چھوٹی چھوٹی خواہشوں کا قتل ہوتے دیکھ کر
وقت اس سے چھین لے گا خودپسندی کا غرور
ہاں، یقیناً وہ خدا بن کر بہت پچھتائے گا
وہ ہے سر تا پا مجسم اک فرانسیسی شراب
نشہ بن کر جسم اس کا ذہن پر بھی چھائے گا
خواہشوں کے جنگلوں میں لذتوں کے پیڑ ہیں
جن کے سائے میں مسافر دیر تک سستائے گا
آپ اپنی آگ میں ہم ہاتھ تاپیں گے ادیب
جب دسمبر ساتھ اپنے برفباری لائے گا
کرشن ادیب
No comments:
Post a Comment