نوحہ بر مرگِ ساحر لدھیانوی
راہ تکتے ہیں تیری دیدۂ حیراں ساحر
لے گئیں تجھ کو کہاں خواب کی پریاں ساحر
زہر پیتے ہیں تیری یاد میں احباب تیرے
ہائے کیوں چھوڑ گیا محفلِ یاراں ساحر
ایک ایک کر کے بجھے جاتے ہیں تارے سارے
آشنا مجھ کو کیا رسمِ جنوں سے تُو نے
میں نہ تھا پہلے کبھی چاک گریباں ساحر
خود کو ڈھانپا ہے تیرے غم کی قبا سے، ورنہ
دل بھی ننگا تھا تیرا، روح بھی عریاں ساحر
عشق پیشہ تھا تِرا، جس کو نبھایا میں نے
چل دیا توڑ کے تُو سارے ہی پیماں ساحر
منتظر آج بھی ہے دعوتِ شیراز تیری
بن کے آیا نہ کبھی تُو مِرا مہماں ساحر
سلطنت آج لٹی، میری محبت کی ادیب
چھن گیا مجھ سے مِرا تختِ سلیماں ساحر
کرشن ادیب
No comments:
Post a Comment