انصاف کے قانون کا کیا خوب چلن ہے
اس دور میں جینے کی سزا دار و رسن ہے
افلاس کے مارے ہوئے انساں ہیں کہ لاشیں
ہر لاش پہ ارمانوں کے سائے کا کفن ہے
یہ جان کے ہر جورِ زمانہ ہے گورا
حائل ہے تِری راہ میں دیوار تو کیا غم
ہر عشق کی تہذیب میں تیشے کا چلن ہے
اے دوست! مِرے رنگ پریدہ پہ نہ جانا
یہ غم نہیں تیرا، غمِ دوراں کی تھکن ہے
دامن کی طرف ہاتھ نہ بڑھتا کبھی لیکن
شاید تِرے دامن میں محبت کا چمن ہے
گلریز پیامؔ آج ہے پھر خامۂ رنگیں
پھر دل کا لہو زینتِ گلزارِ سخن ہے
پیام فتح پوری
پیام فتحپوری
No comments:
Post a Comment