Thursday, 10 December 2015

انصاف کے قانون کا کیا خوب چلن ہے

انصاف کے قانون کا کیا خوب چلن ہے
اس دور میں جینے کی سزا دار و رسن ہے
افلاس کے مارے ہوئے انساں ہیں کہ لاشیں
ہر لاش پہ ارمانوں کے سائے کا کفن ہے
یہ جان کے ہر جورِ زمانہ ہے گورا
شاید غمِ دوراں تِرے ماتھے کی شکن ہے
حائل ہے تِری راہ میں دیوار تو کیا غم
ہر عشق کی تہذیب میں تیشے کا چلن ہے
اے دوست! مِرے رنگ پریدہ پہ نہ جانا
یہ غم نہیں تیرا، غمِ دوراں کی تھکن ہے
دامن کی طرف ہاتھ نہ بڑھتا کبھی لیکن
شاید تِرے دامن میں محبت کا چمن ہے
گلریز پیامؔ آج ہے پھر خامۂ رنگیں
پھر دل کا لہو زینتِ گلزارِ سخن ہے

پیام فتح پوری
پیام فتحپوری

No comments:

Post a Comment