خوب نکلے جستجوئے یار میں
خار دامن میں ہے دامن خار میں
کیا کریں گے جا کے ہم گلزار میں
دل لگا ہے اپنا کوئی یار میں
کیا دھرا ہے نرگسِ بیمار میں
لفط اوس سے پوچھیے آزار کا
جس کا دل اٹکا ہو زلفِ یار میں
وصل میں جب بت بنے بیٹھے رہو
فرق کیا ہے آپ میں دیوار میں
کاش ہوتے شاہدِ بازار تم
ہم نے مرتے حسرتِ دیدار میں
درد ہے یا تیر ہے کچھ ہے سہی
چبھ رہا ہے زخمِ دامن دار میں
آزمائیں نالہ تو شاید کبھی
کچھ اثر کر جائے خوئے یار میں
دل کو دل سے یونہی ہو جاتی ہے راہ
دل فریبی چاہیے گفتار میں
مست آنکھیں اور حیائیں واہ واہ
یہ کہاں ہشیاریاں ہشیار میں
داغِ دل تم کو دکھاتے ہم مگر
حسرتیں ہیں سینۂ افگار میں
ہم تو اپنی آرزوئیں ایک دن
دفن کر آئیں گے کوئے یار میں
ہجر کی وہ لذتیں کس کو نصیب
آرزو دل میں ہو دل آزار میں
تھے بہت ہشیار راقمؔ آ گئے
تم فریبِ محرمِ اسرار میں
راقم دہلوی
ہجر کی وہ لذتیں کس کو نصیب
ReplyDeleteآرزو دل میں ہو دل آزار میں