Thursday, 10 December 2015

خوب نکلے جستجوئے یار میں

خوب نکلے جستجوئے یار میں
خار دامن میں ہے دامن خار میں
کیا کریں گے جا کے ہم گلزار میں
دل لگا ہے اپنا کوئی یار میں
کیا دھرا ہے نرگسِ بیمار میں
مستیاں ہیں اور چشمِ یار میں
لفط اوس سے پوچھیے آزار کا
جس کا دل اٹکا ہو زلفِ یار میں
وصل میں جب بت بنے بیٹھے رہو
فرق کیا ہے آپ میں دیوار میں
کاش ہوتے شاہدِ بازار تم
ہم نے مرتے حسرتِ دیدار میں
درد ہے یا تیر ہے کچھ ہے سہی
چبھ رہا ہے زخمِ دامن دار میں
آزمائیں نالہ تو شاید کبھی
کچھ اثر کر جائے خوئے یار میں
دل کو دل سے یونہی ہو جاتی ہے راہ
دل فریبی چاہیے گفتار میں
مست آنکھیں اور حیائیں واہ واہ
یہ کہاں ہشیاریاں ہشیار میں
داغِ دل تم کو دکھاتے ہم مگر
حسرتیں ہیں سینۂ افگار میں
ہم تو اپنی آرزوئیں ایک دن
دفن کر آئیں گے کوئے یار میں
ہجر کی وہ لذتیں کس کو نصیب
آرزو دل میں ہو دل آزار میں
تھے بہت ہشیار راقمؔ آ گئے
تم فریبِ محرمِ اسرار میں

راقم دہلوی

1 comment:

  1. ہجر کی وہ لذتیں کس کو نصیب
    آرزو دل میں ہو دل آزار میں

    ReplyDelete