Thursday, 10 December 2015

بے بلائے مرے مہمان چلے آتے ہیں

بے بلائے مِرے مہمان چلے آتے ہیں
مجھ پہ کرتے ہوئے احسان چلے آتے ہیں
وہ کیے بال پریشان چلے آتے ہیں
اور کھوتے مِرے اوسان چلے آتے ہیں
جانشیں قیس کے ہم ہوتے ہیں، سودا دیکھو
اپنے گہر کو کیے ویران چلے آتے ہیں
جب نہیں دیکھتے دیوار میں رخنہ کوئی
اولٹے پھر کر مِرے ارمان چلے آتے ہیں
جان پیاری ہے رقیبوں کو تو جاتے کیوں ہیں
جو پشیمان پشیمان چلے آتے ہیں
تم اگر عہد کرو ہم سے، ہم آغوشی کا
ہم ہتھیلی پہ دھرے جان چلے آتے ہیں
مہرباں ہو کے جو تم ہم کو بلاؤ پھر ہم
جان کرتے ہوئے قربان چلے آتے ہیں
خط کے پرزے لیے آتا نہ ہو پیغام رساں
بے سبب وہم جو ہر آن چلے آتے ہیں
گر یہ مسجود نہیں دیر و حرم، کیوں دن رات
شوق میں گبرو مسلمان چلے آتے ہیں
ہم کو سمجھائیں گے کیا ناصحِ ناداں راقمؔ
روک دو، جان نہ پہچان چلے آتے ہیں

راقم دہلوی

No comments:

Post a Comment