آرزو وصل کی اوس دن دلِ مضطر نکلے
سینۂ یار سے گر کینۂ کافر نکلے
ہم ازل سے برا لے کے مقدر نکلے
ہات دولت پہ جہاں ڈالا ہے پتھر نکلے
بوند یہی حوض میں باقی رہے کہنا کم ظرف
کہتے ہو غیر سے کچھ ربط نہیں ہے ہم سے
خیر سچ ہو یہی پر شک میرا کیونکر نکلے
آج سمجھے نہیں تقدیر میں وصلِ معشوق
حرفِ تقدیر سے کم حرفِ مقدر نکلے
دیکھ لینا کسی تقدیر سے تقدیر ملے
غیر جب انجمنِ یار سے باہر نکلے
جس کے ہم کشتۂ انداز تھے بارے وہ بھی
ابروئے غیر کی خود کشتۂ خنجر نکلے
حوصلہ عشق کا جب تک نہیں نکلے گا جنوں
چاک دامن کا گریباں کے برابر نکلے
دوست دشمن کی بھی تفریق نہ کی کاتب نے
عشق کی مد میں لکھے دونوں برابر نکلے
آؤ ملوائیں تمہیں دوست سے چل کر راقمؔ
دل کو تم تھام لو، ایسا نہ ہو مضطر نکلے
راقم دہلوی
No comments:
Post a Comment