وہ تو آتے نہیں اے دل تجھے ظن کس کا ہے
بے سبب شوقِ ہم آغوشئ تن کس کا ہے
یاد کس کی ہے تجھے، کون یہاں آتا ہے
نغمۂ شوق فزا مرغِ چمن کس کا ہے
ایک دو دن کا تماشا ہے گلستانِ جہاں
ڈوب مرنے سے ہمیں کام ہے مرنے سے غرض
اس سے کچھ بحث نہیں چاہ و ذقن کس کا ہے
درد کا ضبط مکرنا تو ہے میری تقصیر
خامشی شیوہ یہ ہنگامِ سخن کس کا ہے
تم ہی سمجھو کہ وفا خو ہے طبیعت کس کی
تم ہی جانو کہ دل عہد شکن کس کا ہے
بعد مرنے کے دکھا دیں گے محبت کا نشان
کس کے جامہ سے ملا رنگِ کفن کس کا ہے
بات کیجے تو غضب، ہات لگانا کیسا
بوسہ ایسے کا کوئی لے وہ دہن کس کا ہے
حشر میں بھی یہی اغماض و تغافل رکھنا
پوچھنا ہم سے کہ یہ داغِ کہن کس کا ہے
جب تمہارا نہیں وہ غیر کا کیوں ہو راقمؔ
بد گمان تم نہ ہو وہ عربدہ فن کس کا ہے
راقم دہلوی
No comments:
Post a Comment