بیان کرنے کی طاقت نہیں ہنر بھی نہیں
نہیں طویل یہ قصہ تو مختصر بھی نہیں
ہمارے ہاتھوں وہ ہم کو تباہ کرتے ہیں
یہ اور بات کہ اس کی ہمیں خبر بھی نہیں
ہر اک یقین کی بنیاد شک پہ رکھتا ہے
نجانے اب بھی وہ برسا رہے ہیں پتھر کیوں
ہماری شاخ پہ اب تو کوئی ثمر بھی نہیں
فساد و فتنہ ہے جن کی سرشت میں راغبؔ
سکوں سے بیٹھنے والے وہ اپنے گھر بھی نہیں
افتخار راغب
No comments:
Post a Comment