جو گیسوئے جاناں کے نہیں دام سے واقف
دل ان کا نہیں گردشِ ایام سے واقف
بس ایک ہی محور پہ یہ دل گھوم رہا ہے
آنکھیں ہیں کہ بس ایک در و بام سے واقف
بیگانے پہ پھینکے گا بھلا سنگ کوئی کیوں
ہے کون جو واقف نہیں ناسازئ دل سے
دل کس کا نہیں حسرتِ ناکام سے واقف
مرکوز توجہ ہے فقط کام پہ راغبؔ
انعام سے واقف نہ میں اکرام سے واقف
افتخار راغب
No comments:
Post a Comment