Wednesday, 9 December 2015

کیا آتش الفت ہے بیاں ہو نہیں سکتا

کیا آتشِ الفت ہے بیاں ہو نہیں سکتا
ہو جائیں گے ہم راکھ دھواں ہو نہیں سکتا
مٹھی میں بھلا قید ہوئی ہے کبھی خوشبو
یہ رازِ محبت ہے، نہاں ہو نہیں سکتا
ٹوٹا ہے فلک، یا کہیں ٹوٹا ہے کوئی دل
یونہی تو کہیں شورِ فغاں ہو نہیں سکتا
ملتے نہیں خوشبو بھرے خوشرنگ سے الفاظ
لفظوں میں تِرا روپ بیاں ہو نہیں سکتا
قسمت ہی سے بنتا ہے کوئی شاعر و فنکار
ہر شخص سے یہ کارِ گراں ہو نہیں سکتا
گھر کر گئے دل میں وہ کچھ اس طرح سے راغبؔ
خالی کبھی اب دل کا مکاں ہو نہیں سکتا

افتخار راغب

No comments:

Post a Comment