پڑھا نہ جس کو کسی نے وہ باب ہوں شاید
کتابِ عمر، میں تیرا عذاب ہوں شاید
اٹھا نہ تیشۂ تعبیر آئینہ مجھ پر
جگا نہ مجھ کو کہ پتھر کا خواب ہوں شاید
ہو کیسے ورنہ سمندر کو دشمنی مجھ سے
میں دشت دشت برستا سحاب ہوں شاید
میں جسم جسسم بکھر کر چُکا رہا ہوں جسے
کبھی نہ ختم ہو میں وہ حساب ہوں شاید
میں خود کو خود سے الگ ہو کے سوچتا کیوں ہوں
یہ جسم دشت ہے اور میں سراب ہوں شاید
نظر ملاتا نہیں ہے اسی لیے مجھ سے
میں تیرے خواب کا مہمل جواب ہوں شاید
زمیں کے درد کا مرکز تو تھا ہی میں منظورؔ
خلا کا سببِ اضطراب ہوں شاید
حکیم منظور
No comments:
Post a Comment