Sunday, 21 March 2021

دریافت کر لیا ہے بسایا نہیں مجھے

 دریافت کر لیا ہے، بسایا نہیں مجھے

سامان رکھ دیا ہے، سجایا نہیں مجھے

کیسا عجیب شخص ہے اٹھ کر چلا گیا

برباد ہو گیا تو بتایا نہیں مجھے

وہ میرے خواب لے کے سرہانے کھڑا رہا

میں سو رہی تھی اس نے جگایا نہیں مجھے

 بازی تو اس کے ہاتھ تھی پھر بھی نہ جانے کیوں 

مہرہ سمجھ کے اس نے بڑھایا نہیں مجھے

وہ انتہائے شوق تھی یا انتہائے ضبط

تنہائی میں بھی ہاتھ لگایا نہیں مجھے


آصفہ نشاط

No comments:

Post a Comment