Tuesday, 23 March 2021

ہمارے بیچ غضب کا مکالمہ ہوا تھا

 ہمارے بیچ غضب کا مکالمہ ہوا تھا

پھر اس کے بعد یہ سوچا گیا کہ کیا ہوا تھا

نہ صرف تلخ بہت تھا وہ نیلگوں بھی تھا

مجھے تو شک ہے سمندر میں کچھ ملا ہوا تھا

کہانی میں کردار کچھ ملا ایسا 

تھے جس کے ہاتھ تو آزاد منہ بندھا ہوا تھا 

ذرا قریب جو آیا اسے ڈبو دیں گے 

سمندروں کا کسی سے معاہدہ ہوا تھا 

چلو وہ دُور رہے گا تو بھول جائے  

ذرا سی دیر مجھے یہ مغالطہ ہوا تھا


آصفہ نشاط

No comments:

Post a Comment