ہمارے بیچ غضب کا مکالمہ ہوا تھا
پھر اس کے بعد یہ سوچا گیا کہ کیا ہوا تھا
نہ صرف تلخ بہت تھا وہ نیلگوں بھی تھا
مجھے تو شک ہے سمندر میں کچھ ملا ہوا تھا
کہانی میں کردار کچھ ملا ایسا
تھے جس کے ہاتھ تو آزاد منہ بندھا ہوا تھا
ذرا قریب جو آیا اسے ڈبو دیں گے
سمندروں کا کسی سے معاہدہ ہوا تھا
چلو وہ دُور رہے گا تو بھول جائے
ذرا سی دیر مجھے یہ مغالطہ ہوا تھا
آصفہ نشاط
No comments:
Post a Comment