Tuesday, 23 March 2021

تنہا گھر سے باہر جانا ٹھیک نہیں

 تنہا گھر سے باہر جانا ٹھیک نہیں

تم معصوم ہو اور زمانہ ٹھیک نہیں

ایسی چیزیں دور سے اچھی لگتی ہیں

چاند کو اپنے پاس بلانا ٹھیک نہیں

رفتہ رفتہ تعبیریں بہہ جاتی ہیں

نم آنکھوں میں خواب سجانا ٹھیک نہیں

صاف دلوں کو پھر سےمیلا کر دیں گی

گزری باتوں کو دہرانا ٹھیک نہیں

آؤ میرے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھو

سائل کو خالی لوٹانا ٹھیک نہیں

چھوڑ ضیا ان پتھر دل انسانوں کو

اپنے دل کا حال سنانا ٹھیک نہیں


ضیاء اللہ قریشی

No comments:

Post a Comment