تنہا گھر سے باہر جانا ٹھیک نہیں
تم معصوم ہو اور زمانہ ٹھیک نہیں
ایسی چیزیں دور سے اچھی لگتی ہیں
چاند کو اپنے پاس بلانا ٹھیک نہیں
رفتہ رفتہ تعبیریں بہہ جاتی ہیں
نم آنکھوں میں خواب سجانا ٹھیک نہیں
صاف دلوں کو پھر سےمیلا کر دیں گی
گزری باتوں کو دہرانا ٹھیک نہیں
آؤ میرے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھو
سائل کو خالی لوٹانا ٹھیک نہیں
چھوڑ ضیا ان پتھر دل انسانوں کو
اپنے دل کا حال سنانا ٹھیک نہیں
ضیاء اللہ قریشی
No comments:
Post a Comment