کام مشکل تھا بہت ہم نے مگر کام کیا
ہو کے بدنام محبت میں بڑا کام کیا
عشق کی راہ میں عشاق نے جو کام کیا
اس کو اک خاص سلیقہ سے سر انجام کیا
تھی تو پہلے بھی یہ دنیا میں ولے تھی محدود
ہم نے اس رسمِ محبت کو مگر عام کیا
دل میں اس حسن کی جب شمع فروزاں دیکھی
گُل چراغِ شبِ غم ہم نے سرِ شام کیا
وسعتِ کارِ محبت کا بیاں کیا ہو جلیل
کام اتنا تھا کہ دَم بھر بھی نہ آرام کیا
جلیل قدوائی
No comments:
Post a Comment