Tuesday, 23 March 2021

کام مشکل تھا بہت ہم نے مگر کام کیا

 کام مشکل تھا بہت ہم نے مگر کام کیا

ہو کے بدنام محبت میں بڑا کام کیا

عشق کی راہ میں عشاق نے جو کام کیا

اس کو اک خاص سلیقہ سے سر انجام کیا

تھی تو پہلے بھی یہ دنیا میں ولے تھی محدود

ہم نے اس رسمِ محبت کو مگر عام کیا

دل میں اس حسن کی جب شمع فروزاں دیکھی

گُل چراغِ شبِ غم ہم نے سرِ شام کیا

وسعتِ کارِ محبت کا بیاں کیا ہو جلیل

کام اتنا تھا کہ دَم بھر بھی نہ آرام کیا


جلیل قدوائی

No comments:

Post a Comment