بستی چھوڑ کے جانے والے اچھے لگتے ہیں
کچھ لوگوں کو کُنڈی تالے اچھے لگتے ہیں
عام روش سے ہٹ کر چلنے والے زندہ باد
اُلٹے ہاتھ سے لکھنے والے اچھے لگتے ہیں
کبھی کبھی خاموشی اپنا رنگ جماتی ہے
کبھی کبھی ہونٹوں پر تالے اچھے لگتے ہیں
جُھوٹی قسمیں، جُھوٹے وعدے، جُھوٹا استغراق
عشق میں یہ سب گڑ بڑ جھالے اچھے لگتے ہیں
سچے لوگ بُرے لگتے ہیں میرے لوگوں کو
لمبی لمبی پھینکنے والے اچھے لگتے ہیں
میرے پاؤں نہیں پڑتے اونچی دوکانوں میں
مجھ کو ریڑھی پٹری والے اچھے لگتے ہیں
شکیل جمالی
No comments:
Post a Comment