اک نظر پیار کی ادھر کر دے
تُو مکمل مِرا سفر کر دے
رُوح کی تشنگی مٹانے کو
اپنی چاہت سے تر بہ تر کر دے
میں مسافر بنوں مدینے کا
مجھ پہ رحمت کی اک نظر کر دے
وقتِ رُخصت ہے دید کی خواہش
کوئی جا کر انہیں خبر کر دے
اپنے ہاتھوں سے پھینک دو خنجر
سامنے خم کوئی جو سر کر دے
شاہ کوئی ہو یا گدا کوئی
تُو جسے چاہے معتبر کر دے
چاہتا ہے سکونِ دل جو تقی
خواہشیں اپنی مختصر کر دے
تقی ککراوی
السلام علیکم محترم ایڈمن
ReplyDeleteویب سائیٹ کے ٹاپ پر لکھا ھے کہ اپنی شاعری بلاگ پر لگوانے کے لئے رابطہ فرمائیں
تو براہِ کرم بتا دیں کہ رابطہ کس ای میل پر کیا جا سکتا ھے؟
saghiruw@gmail.com
Delete