Sunday, 23 May 2021

اک نظر پیار کی ادھر کر دے

اک نظر پیار کی ادھر کر دے

تُو مکمل مِرا سفر کر دے

رُوح کی تشنگی مٹانے کو

اپنی چاہت سے تر بہ تر کر دے

میں مسافر بنوں مدینے کا

مجھ پہ رحمت کی اک نظر کر دے

وقتِ رُخصت ہے دید کی خواہش

کوئی جا کر انہیں خبر کر دے

اپنے ہاتھوں سے پھینک دو خنجر

سامنے خم کوئی جو سر کر دے

شاہ کوئی ہو یا گدا کوئی

تُو جسے چاہے معتبر کر دے

چاہتا ہے سکونِ دل جو تقی

خواہشیں اپنی مختصر کر دے


تقی ککراوی

2 comments:

  1. السلام علیکم محترم ایڈمن
    ویب سائیٹ کے ٹاپ پر لکھا ھے کہ اپنی شاعری بلاگ پر لگوانے کے لئے رابطہ فرمائیں
    تو براہِ کرم بتا دیں کہ رابطہ کس ای میل پر کیا جا سکتا ھے؟

    ReplyDelete