خوف میں لپٹی اک انجانی ویرانی
چیخ رہی ہے پانی، پانی، ویرانی
تین اقسام کی لذت ہے ان آنکھوں میں
نیلے آنسو، کاجل دھانی، ویرانی
دریا پار کا منظر دیکھنا چاہو گے؟
دیکھنا چاہو گے سرطانی ویرانی؟
میں اس دور کا سب سے پکا وحشی ہوں
مجھ سے نہ کرنا بے ایمانی، ویرانی
اسامہ خالد
No comments:
Post a Comment