Thursday, 8 July 2021

خوف میں لپٹی اک انجانی ویرانی

 خوف میں لپٹی اک انجانی ویرانی

چیخ رہی ہے پانی، پانی، ویرانی

تین اقسام کی لذت ہے ان آنکھوں میں

نیلے آنسو، کاجل دھانی، ویرانی

دریا پار کا منظر دیکھنا چاہو گے؟

دیکھنا چاہو گے سرطانی ویرانی؟

میں اس دور کا سب سے پکا وحشی ہوں

مجھ سے نہ کرنا بے ایمانی، ویرانی


اسامہ خالد

No comments:

Post a Comment