Saturday, 10 July 2021

صحرا کی گرم ریت میں اشجار دیکھ کر

 صحرا کی گرم ریت میں اشجار دیکھ کر

بڑھنے لگا جنوں گل و گلزار دیکھ کر

اس عہدِ سوگوار میں، عہدِ خزاں میں جان

ہم خوش ہیں تیرے پھول سے رخسار دیکھ کر

جب جانتے ہیں، جیت کا معیار ہے کچھ اور

پھر فیصلہ ہی کیوں کریں رفتار دیکھ کر؟

جتنا ہمارا فرض تھا ہم نے نبھائی دوست

اب دیکھ کر، ہے راستہ دشوار دیکھ کر

اس زندگی کی دوڑ میں آنکھیں کُھلی رکھیں

قبل اس کے، آپ گر پڑیں سرکار! دیکھ کر

سرکار چہرہ دیکھ کے مت داد دیجیے

سرکار داد دیجیے اشعار دیکھ کر

کہتا تھا تیرے منہ نہیں لگنا تمام عمر

سینے سے اک دن آ لگا بیمار دیکھ کر

خوشیوں کے نام پہ ہمیں ملتے ہیں غم عقیل

خوں تھوکتے ہیں، خوں بھرے تہوار دیکھ کر


احمد عقیل روبی

No comments:

Post a Comment