Saturday, 10 July 2021

تم جفاؤں کو ذرا رنگ وفا تو دے دو

تم جفاؤں کو ذرا رنگ وفا تو دے دو

شعلۂ عشق کو تھوڑی سی ہوا تو دے دو

کیوں پشیمان ہو تازہ ہے ابھی خون جگر

لو کف ناز کو تم رنگ حنا تو دے دو

اے صبا پھول پریشان ہیں خوشبو کے لیے

ان کے آنچل کی مہک لا کے ذرا تو دے دو

شعلۂ حسن کہیں خاک نہ کر دے مجھ کو

چہرۂ نور پہ زلفوں کی گھٹا تو دے دو

ہوش کی بات جنوں میں نہیں بھاتی شاہد

میرے مخلص مجھے منزل کا پتہ تو دے دو


فضل حق شاہد عظیم آبادی

No comments:

Post a Comment