تم جفاؤں کو ذرا رنگ وفا تو دے دو
شعلۂ عشق کو تھوڑی سی ہوا تو دے دو
کیوں پشیمان ہو تازہ ہے ابھی خون جگر
لو کف ناز کو تم رنگ حنا تو دے دو
اے صبا پھول پریشان ہیں خوشبو کے لیے
ان کے آنچل کی مہک لا کے ذرا تو دے دو
شعلۂ حسن کہیں خاک نہ کر دے مجھ کو
چہرۂ نور پہ زلفوں کی گھٹا تو دے دو
ہوش کی بات جنوں میں نہیں بھاتی شاہد
میرے مخلص مجھے منزل کا پتہ تو دے دو
فضل حق شاہد عظیم آبادی
No comments:
Post a Comment